Breaking News

6/recent/ticker-posts

"Transgender". Brief Article by Eraj Swalaheen

 Name: Transgender 

Genre: Article

Writer:Eraj Swalaheen


"Transgender "by Eraj Swalaheen is the public awareness article. Reflects the social issue . Brief Article about the transgenders. In this article you get the information about who is transgender? What laws are made by the government of Pakistan for the transgenders?. What is the difference between eunuch and transgender?. 




:ٹرانس جینڈر 

ٹرانس جینڈر کی اصطلاح آج کل ہر ایک استعمال کر رہا ہے۔

اور اب یہ ایک عام سا لفظ سمجھا جاتا ہے۔ لوگوں کے ذہنوں میں یہی ہے کہ ٹرانس جینڈر خواجہ سراؤں کو کہا جاتا ہے۔ جبکہ یہ ایک سنگین غلط فہمی ہے۔ خواجہ سراؤں اور ٹرانس جینڈر کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ 

جبکہ اُن بیچاروں کو تو کوئی پوچھتا تک نہیں۔ 


ٹرانس جینڈر کون ہوتے ہیں؟ ۔۔۔ 

ٹرانس جینڈر ایک مکمل صحت مند آدمی تھا۔ وہ رب کی طرف سے مکمل تھا۔ اُس میں نسلِ انسانی کو بڑھانے کی صلاحیت تھی۔ مگر پھر اُس کے دماغ میں ایک ایسی خرابی پیدا ہوگئی کہ اُسے نسوانہ انداز ، اور نازو ادا دکھانے کا شوق پیدا ہوا ۔اُس نے نادرا میں اپنی رجسٹریشن کروائی اور پھر وہ اپنی جنس تبدیل کرکے اپنی مرضی سے ایک عورت میں تبدیل ہوگیا۔ 

وہ مکمل تھا لیکن اُس کا دماغ مکمل نہیں تھا۔ وہ نفسیاتی تھا۔ 


سن 2018 میں حکومتِ پاکستان نے ایسے مرد و عورت جو اپنی جنس تبدیل کرنا چاہتے ہوں کے لیئے ایک قانون پاس کیا جس میں ایسے لوگوں کو ٹرانس جینڈر کا نام دیا اور پاکستان جیسی اسلامی جمہوریہ میں ایک قبیح فعل اور گناہ کو قانون کا حصہ قرار دیا۔ 

اُس قانون کے تحت جو مرد و عورت اپنی جنس تبدیل کرنا چاہتے ہیں وہ کرسکتے ہیں اور پھر اُس کے بعد شادی بھی کرسکتے ہیں جو یقیناً ہم جنس پرستی میں قانونی حیثیت سے یا قانونی اجازت سے پوری آزادی کے ساتھ مبتلا رہ سکتے ہیں۔ 

پورے ملک کے ڈاکٹرز چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ اس بیماری کا علاج ہے لیکِن افسوس کے ساتھ ہمارے ملک میں ایک ایسا قانون نافذ ہوگیا ہے جو قومِ لوط میں بھی نہیں ہوسکا تھا۔ 

کچھ عرصہ پہلے ہمارا میڈیا زور و شور سے خبر دے رہا تھا کہ اس ملک کا پہلا / پہلی ٹرانس جینڈر ڈاکٹر بن گیا / گئی ہے ۔ اور ہر شہری نے اس بات کو خوب زور و شور سے اچھالا تھا اور اسے سراہا تھا۔ یہ لوگوں کی لاعلمی تھی تو شدید لاعلمی ہے۔ ہمارے ملک میں اس قانون کے ذریعے سے ہم جنس پرستی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اُسے عام سی بات بنائی جا رہی ہے۔ جبکہ یہ کبیرہ گناہ ہے ۔ خواجہ سراؤں اور ٹرانس جینڈر کا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔ خواجہ سراء اللّہ کی طرف سے ہی ادھورے پیدا کئے گئے ہیں اس میں ان کا کوئی قصور نہیں۔ نہ ہی وہ اتنی اکثریت میں ہیں۔ 

ہمارے ملک میں ٹرانس جینڈر کی اصطلاح کو عام کرکے ہمارے لیے گناہوں کو عام بنایا جا رہا ہے دوسرے لفظوں میں ہمارے لیے آسان کیا جا رہا ہے۔ ایک بات یاد رکھئے گا ایمان کا سب سے کمزور درجہ برائی کو دل میں برا جاننا ہے ۔ اور سب سے مضبوط درجہ اُسے روکنے کی کوشش کرنا ہے۔ مضبوط بنیں اور غلط کو غلط کہنے میں ہمارا ساتھ دیں ۔ کسی کے لیے نہیں صرف اپنے لئے۔ اس پیغام کو عام کریں ۔ 

کیونکہ یہ قوم لوط کا فعل ہے۔ جن کی چار بستیوں کو زمین سے اٹھا کر پھر اُسے دوبارہ زمین پر پھینک دیا گیا تھا۔ پھر ان پر پتھروں کا عذاب آیا تھا۔ ہر ایک فرد کو چن چن کر پتھر لگ رہے تھے۔ وہ خوشحال اور جیتی جاگتی بستی لمحوں میں دھویں کا مرغولہ بن گئی یہ قہرِ الٰہی تھا اور ہمیں اس قہر سے اللّہ کی پناہ مانگنی چاہیئے۔ اللّہ ہمیں گناہوں سے بچائے۔ آمین 


Post a Comment

0 Comments