Breaking News

6/recent/ticker-posts

بچوں کی تربیت میں والدین کا کردار Bacho ki tarbiat by Fawad Faadi۔

 بچوں کی تربیت میں والدین کا کردار

(بچوں کی تربیت کے کچھ گر)

بقلم فواد فادی 



بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

آج کا عنوان میرا پسندیدہ موضوع ہے۔مواد اتنا زیادہ ہے کہ حیران ہوں، کیا لکھوں؟کیا چھوڑوں؟ مگر اللہ کا نام لیکر شروع کرتا ہوں۔

ہر انسان کی تربیت میں چار چیزیں بہت زیادہ اثر انداز ہوتی ہیں۔گھر،گلی،درسگاہ اور معاشرہ۔ بچے کی تربیت میں والدین کی ذمہ داری ایک شرعی فریضہ ہے جس کی آخرت میں پوچھ گچھ ہوگی۔

عنوان کو مدنظر رکھتے ہوئے بچے کو مثالی بنانے والی تربیت کے حوالے سے چند امور کا تذکرہ کروں گا۔امید ہے قارئین کے لیے مفید ہوں گے!

بچے اور والدین کی محبت کا رشتہ دنیا کے سامنے عیاں ہے۔یہ بھی سب کو معلوم ہے کہ اظہار محبت ہر رشتے میں ضروری ہوتا ہے لہذا والدین بچوں کے سامنے اظہار محبت کی روزانہ تجدید کیا کریں۔کیونکہ اگر آپ انہیں یہ محبت نہیں دیں گے تو باہر کا کوئی شخص انہیں محبت دےگا اور واپسی میں کیا ڈیمانڈ کرےگا۔اس نزاکت کو ملحوظ رکھیں۔

 بچوں کو گلے لگائیں جس سے بچوں کو تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔جب بات کریں تو بچوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریں جس سے بچے کو اپنے لئے محبت کا حقیقی مرکز نظر آتا ہے۔بچوں کو ماتھے پر محبت بھرا بوسہ دیا کریں جس سے بچے کے دل میں محبت کی رگیں آپ کے لئے سیراب رہیں گی۔بچوں کو دوست بنا کر رکھیں۔ان کے بہترین دوست بن جائیں، خاص کر باپ اپنے بیٹے کے لیے باپ کی حیثیت رکھے، تھانیدار نہ بنے۔جب رات کو آپ گھر داخل ہوں تو بچے بھاگتے ہوئے آپ کی طرف لپکے۔یہ نہ ہو کہ آپ سے چھپنے کی کوشش کرے اور دور جاکر بیٹھنے کی تلاش میں لگ جائے۔

 والدین کی خدمت میں چند نہ کرنے کے کام عرض کروں گا۔

 بچے کو غیر اللہ سے نہ ڈرائیں۔

 آپ کے بچے کو غیر اللہ کا کوئی خوف نہ ہو۔اللہ کے سوا کسی بھی چیز سے بچے کو مت ڈرائیں۔غیر اللہ کا خوف ایمان کا دشمن ہے۔بچہ میں بنیادی برائیاں خوف کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔بچہ اپنی زندگی کا سب سے پہلا جھوٹ والدین کے خوف کی وجہ بولتا ہے کیونکہ اس دن اگر وہ جھوٹ نہ بولتا تو اس کی شامت آجاتی۔ اس کو آپ کا خوف تھا۔بچے کو اپنے خوف سے بچانا تربیت کی ذمہ داریوں میں سے ہے۔اگر اچھا کرانا چاہتے ہو تو اپنے خوف سے بچائیں۔

 انعام کی لالچ میں کوئی کام کروانا:

 اس عمل کی وجہ سے بچے کی نیت تباہ ہوجاتی ہے۔حب جاہ اور حب مال تباہیاں مچانے والے اعمال ہیں۔اگر کوئی بچہ اچھا کام انعام کی لالچ میں کرتا ہے تو اس کی نیت ٹھیک نہیں ہے۔کیونکہ اس سے بچے میں اخلاص کے بجائے منافقت پیدا ہوجاتی ہے۔ آپ بچے کو انعام دیا کریں اس سے آپ کو منع نہیں کیا جا رہا مگر انعام کو اچھے کام کے بدلے میں لالچ کے طور پر پیش نہ کیجیے۔بلکہ اس کو سکھائیں کہ وہ اچھا کام اس لئے کرےگا کیونکہ وہ ایک اچھا کام ہے چاہے اس پر کوئی انعام نہ ہو۔اگر بچے کو ایسا لالچی بنادیا تو کل کو کوئی اسے غلط کام پر انعام رکھے گا تو وہ غلط کام کرےگا کیونکہ اس کو انعام کی لالچ کی تربیت دی گئی ہے۔لہذا یہ انعام مسئلہ کا حل نہیں بلکہ اس سے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔بچے کو مخلص رکھیں۔اس میں للہیت پیدا کریں۔

 بچے کی نیت پر شک نہ کریں:

 جب آپ بچے سے کہتے ہیں کہ سچ سچ بتاؤ کہاں سے آرہے ہو؟ تو اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ اگر میں یہ جملہ نہیں بولوں گا تو تم جھوٹ بولو گے۔کسی بچے پر شک کرنے سے اس کا ایمان اور کریکٹر تباہ ہوجاتا ہے۔

 کسی بچے کو بےجا شرمندہ کرنا:

 الله تعالى نے ہر انسان کے اندر ایک Senser رکھا ہےاور جب انسان پہلا گناہ کرتا ہے تو اس کے senser کے اندر زلزلہ لگ جاتا ہے جب تک وہ توبہ نہیں کرتا۔انسان کے اندر غلط کام پر شرمندہ ہوسکنے کی صلاحیت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ودیعت ہے۔ لیکن جب ہم کسی بچے کو ایسے کام کرنے پر شرمندہ کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جس پر شرمندہ نہیں ہونا چاہیے تو اس بچے میں Basic natural Senser تباہ ہوجاتا ہے۔بچے کو نمبر کم لانے پر،کام نہ کرنے پر،بال چھوٹے نہ کرنے پر،سلام نہ کرنے پر۔۔۔عجیب عجیب حرکتوں سے شرمندہ کرتے ہیں۔

 بے حیائی:

 بچے کے ایمان کو خراب کرنے والی بنیادی چیز بےحیائی ہے۔بچوں کی پہلی درسگاہ اور تجربہ گاہ والدین کی گود ہے۔بچے بصارت اور سماعت کے ذریعے علم اور چیزوں کی جانکاری حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے نفس پر قابو رکھیں۔اپنے خیالات کو پاک رکھیں۔اپنی خواہشات کو پاک رکھیں۔تربیت یہ ہے کہ ہم اپنی تنہائیوں میں بھی خوبصورت ہو جائے۔ مجلسوں میں دنیا ہمیں اچھا کہے، یہ آسان کام ہے۔گھر کے چار پانچ افراد ہماری اچھائی کی گواہی دے، یہ مشکل کام ہے۔گھر کے اندر حیا کا ایلیمنٹ برقرار رکھنا انتہائی اہم پوائنٹ ہے۔

 محققین کے مطابق جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو تربیہ اور کریکٹر کا ڈریم اس کے اندر موجود ہوتا ہے۔مگر اس کے باوجود بچے کا ایمان اور کریکٹر خراب ہوجاتا ہے۔ایک شریف انسان نہیں بن پاتا۔اس عمل میں والدین کا کردار بہت اہم ہے لہذا والدین کو چاہئے کہ اپنے بچے کی بہتر سے بہتر تربیت کریں ۔

ختم شد 

Post a Comment

0 Comments