:آرٹیکل
"انسانیت"
ازقلم: زہراء دستگیر
ایک ایسا جزبہ جو اتنا وسیع ہے کہ اس میں پورا جہاں سما سکتا اور ایسا کم وسعت والا بھی کہ ایک لفظ میں سما جائے ۔ایسا لفظ جو اپنے اندر ایک جہاں رکھتا ہے ۔
"انسانیت" ۔
تو دراصل انسانیت کیا ہے؟ انسانیت احساس کا نام ہے ۔یہ ایک جزبہ ہے۔جسکا سب سے ہلکا مظاہرہ ماں اور اولاد کا پیار ہے اور اعلیٰ مظاہرہ لوگوں کااحساس کرنا ہےکہ جن سے تعلق نا ہونے کے باوجود احساس ہو۔انسانیت یہ ہے کہ ہر انسان کو وہی حق دیا جائے جو آپ اپنے لیے چاہتے ۔جو آپ کو لگتا کہ آپکے لیے ضروری ہے وہی آپ دوسرے کو دینے میں نا ہچکچائیں۔
انسانیت ہر انسان کے مساوی ہونے کا نام ہے ۔جیسا کہ اسلام نے ہر ایک انسان کو برابر کیا ہے۔اسلام امن کا علم بردار ہے۔نفرت،بغض،کینہ اور عداوت نہیں سکھاتا۔یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر انسان برابر ہے۔ اور سب کے حقوق و فرائض بھی برابر ہیں۔اللہ نے ہمیں ایک ہی انسان سے بنایا ہےاور ایک سی حیثیت دی۔
ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نصیحتیں کیں تھیں خطبہ حجتہ الوداع میں اور واضح کیے تھے چند اہم نکات ۔ان میں ایک یہ بھی تھا کہ
کسی عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئ فوقیت حاصل نہیں ۔(سوائے تقویٰ کے)
یعنی کہ سارے انسان برابر ہیں۔اور اگر کسی کو فضیلت حاصل کرنا تو وہ تقویٰ کی بنیاد ہی ہوسکتی۔سوال یہ کہ تقویٰ کی بات کہاں سے آ گئ تو اگر کوئی شخص اللہ سے ڈرے گا تو ہی تو دوسرے کو انسان سمجھ کر اچھا برتاؤ کرے گا۔اپکا برتاؤ بتاتا کہ آپ انسان ہیں حیوان یا شیطان۔
انسانیت ایک شرف ہے جو ہر کسی کو نہیں مل جاتا۔اس کے لیے احساس کرنے والا بنناپڑتا ۔احساس ہونا چاہیے کہ آپ کا عمل دوسرے کے لیے فائیدہ مند ہوگا یا نہیںٔ ۔اگر آپ لذیز کھانا کھا رہے اور کی آپکا پڑوسی بھوکہ ہے تو انسانیت کا تقاضا ہے کہ آپ اچھا انسان ہونے کے ناطے اسے آپ اپنے ساتھ شریک کریں یا پھر مدد دی جاۓ۔
انسان ہونا ہمارا انتخاب نہیں قدرت کی عطا ہے۔لیکن اپنے اندر انسانیت بناۓ رکھنا ہمارا انتخاب ہے۔
" درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ اطاعت کے لیے کچھ کم نا تھے کرو بیاں"
۔
اللہ نے انسان کی تخلیق ہی اسی لیے کی کہ وہ دوسرے کا احساس کر سکے ۔اس کے درد کو کم کر سکے ۔اور جو اسے بڑھا دے وہ انسان نہیں ۔جس میں دوسرے کا درد محسوس کرنے کی صلاحیت نہیں اس میں انسانیت نہیں ۔
میری نظر میں دوسرے کی مدد کر کے، اسکا احساس کر کے ہم یہ بتاںتے ہیں کہ ہم انسان ہیں ورنہ بے حس انسان نہیں ہو سکتے اچھا انسان ہونے کا ثبوت ہی یہ ہے کہ دوسرے کی مدد کی جائے
" ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے
السلام علیکم ۔۔ قرطاس اردو ادب کی جانب سے آپ کو یہ آرٹیکل کیسا لگا؟ ۔۔ اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں کریں

0 Comments