Picture Mystery
Analysis by Aqsa Kanwal.
تحریر :: اقصٰی کنول
انسان کے کسی بھی عمل کے پیچھے اس کا اپنا مفاد جڑا ہوتا ہے .انسان خود پرست بھی ہے منافق بھی ہے اور مفاد پرست بھی ہے .انسان جب کسی کی طرف قدم بڑھاتا کسی سے دوستی کرتا ہے تو اس کے پیچھے اس کا اپنا مفاد چھپا ہوتا ہے انسان انسان کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتا ہے
جب کی جانوروں کی یہ خاصیت ہے کہ وہ صرف محبت کی زبان سمجھتے ہیں ان کی طرف بڑھتے ہاتھوں کا مقصد وہ نہیں جانتے ہوتے کہ کس مقصد کے تحت یہ ہاتھ ان کی طرف بڑھ رہے ہیں وہ ہر ایک پر اعتبار کرتے ہیں کوٸی بھی ان کو پیار سے بلاۓ وہ اسی سے مانوس ہو جاتے ہیں جانوروں میں بلی زیادہ ہی آذاد خیال جانور ہے وہ اپنی مرضی سے کسی کے گھر میں پناہ لیتی ہے بہت سے لوگوں نے مختلف قسم
کی بلیاں پال رکھی ہوتی ہیں
بلیو ں کے ساتھ کبھی زور زبردستی نہیں ہو تی وہ جب کسی گھر سے بہت حد تک مانوس ہو جاتی ہیں تب ہی اپنا ٹھکانا اس گھر میں رکھتی ہیں
ان کے فعل سے صرف وہی واقف ہو سکتے ہیں جنہوں نے پالتو بلی یا کتا گھر میں پال رکھا ہو وہ ان کے فعل سے ان کے موڈ کے بارے میں جان لیتے ہیں بلی کی ایک بات مثالی ہے وہ جس گھر جس بندے سے مانوس ہو جاتی ہے پھر وہی پر ساری زندگی بسیرا کرتی ہے
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بلی گھر کا راستہ بھول کر جنگل کی طرف نکل پڑی چلتے چلتے اچانک اسے پیاس کی شدت اور بھوک ستانے لگی
دور دور تک پانی کا کوٸی انتظام نظر نہ آیا آخر کار وہ تھک ہار کر ایک درخت کی نیچے بیٹھ گٸی.
اسی درخت کی جڑ میں ایک معصوم ڈری سہمی سی تتلی بھی بیٹھی ہوٸی تھی بلی نے پنجا آگے کیا وہ ڈر کے اڑنے کی کوشش کرنے لگی تب بلی نے اسے بلایا ارے تتلی کیا بات ہے مجھ سے مت ڈرو میں تو خود یہاں پانی کی تلاش میں ہوں اتنے میں تتلی بولی نہیں تم جھوٹ بول رہی ہو تم بھی انسانوں کی طرح مجھے پکڑ کے میرے خوبصورت رنگ چرا لو گی جیسے انہوں نے میری بہن اور ماں کے رنگ چراۓ وہ انسانوں کے دیش کھولی ہوا میں گھومنے گٸی تھیں انہوں نے خوبصورت رنگ دیکھ کر ان کی خوبصورتی قید کر نے کے لیے ان کو پکڑ لیا خوبصورت رنگ تو ان کی ہتھیلی پر اتر گۓ پر رنگ اترنے کے بعد وہ اڑ نہ سکی اور تڑپ تڑپ کر مر گٸیں ..
لیکن میں ایسا کچھ نہیں کروں گی تتلی بہن تم مجھ پر اعتبار کر سکتی ہو تتلی آہستہ آہستہ بلی کے قریب ہونے لگی اور اس کی ناک پر جا کر بیٹھ گٸی
بلی نے پوچھا تتلی تم ساری جگہ چھوڑ کر میرے ناک پر ہی کیوں بیٹھی تو تتلی بولی یہ جانچنے کے لیے کہ تم قابلے اعتبار ہو یا نہیں ناک پر اس لیے بیٹھی کیونکہ بلی ناک پر کسی چیز کو برداشت نہیں کرتی تم نے مجھے کچھ نہیں کہا اس لیے اب ہم پکی سہلیاں چلو اب میرے پیچھے پیچھے آٶ تمہیں پانی تک لے جاٶں بلی تتلی کے پیچھے پیچھے جانے لگی اور کچھ دور جا کر پانی نظر آگیا بلی نے پانی پیا اور اللہ کا شکر ادا کیا اتنے میں تتلی اداس ہو گٸی بلی نے پوچھا کیا ہوا بہن تو تتلی بولی اب تم واپس چلی جاٶ گی تو میں اکیلی ہو جاٶں گی بلی نے کہا نہیں میں اب تمہارے ساتھ رہ کر تمہاری اور تمہارے خوبصورت رنگوں کی حفاظت کرو ں گی تمہارے رنگوں سے ہی تو بہار معلوم ہوتی ہے
جانوروں کو بس پیار کی زبان سمجھ آتی ہے اور جہاں کہی اپناٸیت محسوس ہو وہی پر بسیرا کر لیتے ہیں پھر کیا گھر اور کیا جنگل
انسان ساری عمر کماتا ہے ایک اچھا گھر بنانے کے لیے لیکن پھر بھی سکون نہیں پاتا آگے سے آگے کی چاہ اسے لے ڈوبتی ہے
اگر وہی انسان تھوڑے میں خوش رہنا سیکھ لے اپنی زندگی میں پیار کے دو بول بولنا سیکھ لے تو وہ بھی بلی اور تتلی کی طرح پرسکون رہ سکتا ہے
ختم شد
السلام علیکم ۔۔ قرطاس اردو ادب کی جانب سے آپ کو یہ آرٹیکل کیسا لگا؟ ۔۔ اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں کریں۔

0 Comments