Pictures Mystery
Analysis by Fatima Sajid.
اس تصویر سے ہم دو طرح کے لوگوں کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
ایک وہ جو اپنی چھوٹی چھوٹی پریشانیوں،مصیبتوں،تکلیفوں اور بہت سے ایسے کام جو اُنہیں کرنے مشکل لگتے ہیں ۔ اُن کا مقابلہ کرنے کی بجاۓ بس یہ سوچتے رہتے ہیں کہ اس پریشانی سے تو ہم نکل ہی نہیں سکتے یا یہ مصیبت اور تکلیف تو ہماری برداشت سے باہر ہے اور یہ کام میں کل کروں گا وغیرہ وغیرہ ۔ وہ زندگی کے اصول کو سمہجھ ہی نہیں پاتے کہ زندگی تو مسلسل مقابلے کا نام ہے جو اللّٰه ہمیں دیتا ہے تاکہ ہمارے زہنو و دل کو تراش تراش کر ایک عمدہ ہرا بنا سکھے ۔
پر وہ ایسے ہی بے بنیاد باتیں سوچ سوچ کر ایسی کٸی ساری چیزوں کو اپنے سر پر تب تک جمع کرتے جاتے ہیں جب تک کہ وہ ان کو پہاڑ بن کر زمین میں نہ دھنسا دے ۔
اور دوسری طرف وہ لوگ جو کسی بھی تکلیف،پریشانی اورمصیبت کا سامنا بڑے ہی دلیر پن سے کرتے ہیں وہ کسی بھی کام کو پہاڑ سمہجھ کر رونے نہیں بیٹھ جاتے بلکہ اپنے آپ کو ہمیشہ آنے والے مقابلے کیلٸے تیار رکھتے پیں کیونکہ وہ زندگی کے مقصد کو سمہجھ چُکے ہوتے ہیں ۔
وہ ہر تکلیف کو اللّٰه کی طرف سے آٸی ہوٸی آزماٸش سمہجھتے ہوۓ اس کو اللّٰه کے ہی بتاۓ ہوۓ طریقے سے برداشت کرتے ہیں ۔
اور پھر اللّٰه ہی انہیں ان کے صبر کے بدلے اُنچے درجے نوازتا ہے ۔
فاطمہ ساجد
اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں کریں آپ کو تصویر پر تجزیہ کیسا لگا؟

1 Comments
Boht khub........bilkl theek kaha....apni parshanio ko boj nhi bana chahiy blky un ko apny ley bulndi pr chrny ka ala banana chahiy.....
ReplyDelete