Breaking News

6/recent/ticker-posts

Picture analysis by Fawad Fadi..

 Picture Mystery

Analysis by Fawad Fadi 




بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم 

  محبت ایک پاک جذبہ ہے، ہر جاندار میں ودیعت ہے۔ایک حد تک اس کی حقیقی سمجھ بھی عام ہے، ہر ذی شعور کو محبت کی زبان کا فہم حاصل ہے۔ صرف انسان ہی الفت کا وارث نہیں ہے، کائنات میں موجود سانس لیوا حیوانات بھی محبت کے گر اور محبت کے تقاضے جانتے ہیں۔۔۔۔ہاں، محض جانکاری نہیں رکھتے بلکہ انہیں محبت نبھانا بھی خوب آتا ہے۔

جانوروں کے پاس محبت کی ایک خاص زبان ہوتی ہے جس زبان کی حقیقت میں کوئی وجود نہیں ہوتا۔زبان تو اظہار مافی الضمیر کا مفہوم پیش کرتی ہے مگر ان جانوروں کے پاس یہ آلہ موجود نہیں ہے تو یہ زبانی جمع خرچ نہیں کرتے، محض الفاظ کے انبار نہیں لگاتے، محبت کا اظہار کرکے محبوب کے لیے زندگی تنگ نہیں کرتےاور سرعام محبت کا ڈھنڈورا نہیں پیٹتے۔محبت کی اندھی پٹی لگا کر راہ چلتے افراد سے محبوب کی بے وفائیاں اور لاچاریاں بیان نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔

     بلکہ محبوب کے لئے قربانیاں دیتے ہیں، آسانیاں تراشتے ہیں ، مشکلات میں ساتھ دیتے ہیں، سہولیات فراہم کرتے ہیں، اپنی من چاہتی پر اس کی عزت و ناموس کو ترجیح دیتے ہیں۔ اپنے نازک ترین مراحل میں محبوب کے لئے مضبوط ترین بن جاتے ہیں۔ ہر مرحلے میں اس کی خوشی و مسرت کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔حقیقت ہے کہ محبت اظہار نہیں قربانی مانگتی ہے۔

     منقش تصویر میں خدا کی تخلیق کردہ حیوان بلی کو ایک دوسری مخلوق تتلی سے جب محبت ہوجاتی ہے تو فقط نعرہ بازی سے کام نہیں لیتی، صرف محبت کا واویلا نہیں کرتی بلکہ قربانی دینے کے لیے خود کو آگے پیش کرتی ہے۔ تتلی کو اپنے ناک جیسے نازک ترین عضو پر جگہ دے جاتی ہے۔(ناک جو کہ عزت و اہمیت سے تعبیر ہے،خوبصورتی اور بدصورتی میں ناک کا اہم کردار ہے،ناک اچھی تو صورت اچھی،۔۔۔ دو بدو لڑائی کے دوران سب سے پہلے مکا ناک پر مارتے ہیں۔کبھی سنا کہ کوئی غلط کام کرتے ہوئے کسی کا کان یا ہونٹ کٹ گیا ، ہمیشہ سے ناک ہی کٹتی آئی ہے۔۔۔الغرض عزت۔۔۔ ناک کا مفہوم پیش کرتی ہے اور ناک۔۔۔عزت کا مفہوم۔۔۔۔)

اپنی ناک پر براجمان کرنے کے بعد محبتوں کے احسانات نہیں جتلاتی۔محبت جیسے پاک جذبے کا اظہار قربانیاں دینے سے کرتی ہے، زبانی جمع خرچ سے نہیں۔۔۔

     اس تصویر میں انسانوں کے لئے محبت کے میدان میں بہت سارے اسباق مخفی ہیں مگر میری نظر میں یہی سب سے اعلی ہے کہ محبت قربانی مانگتی ہے اظہار نہیں۔ اظہار کرنے سے اگر محبت ملتی تو لیلیٰ مجنوں اور شیریں فرہاد میاں بیوی ہوتے۔

    " بانو قدسیہ صاحبہ کے مطابق۔۔۔ محبت میں کسی کو چھوڑنا اسے قتل کرنے کے برابر ہے۔ اظہار کرنے کے بعد راستے جدا کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کو اپنی منزل محبت نہیں مل سکتی تو اظہار بھی نہ کریں۔ چپ چاپ محبت کو دل میں پال کر رکھیں یہی آپ کی عظمت ہے۔"


محبت کو زبان پر لانا، اظہار کی لڑی میں پرونا کوئی کمال نہیں، محبوب کی چاہتوں اور امنگوں کو پورا کرنا ہی اصل محبت ہے جس کے لئے محبت کا احساس کافی ہے،محبوب کے لئے ہر قربانی دینا کافی ہے۔۔۔۔

#از_فواد_فادی



السلام علیکم ۔۔ قرطاس اردو ادب کی جانب سے آپ کو یہ آرٹیکل کیسا لگا؟ ۔۔ اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں کریں۔۔ 

Post a Comment

0 Comments