: آرٹیکل
موضوع:حسد
از قلم: اریجتہ النساء مخدوم
"اندھیروں میں چراغ وہی جلا سکتے ہیں جنکے اپنے اندر اُجالا ہو"۔
حسد کا عنصر ہمارے معاشرے میں اس قدر عام ہےکہ ایک بھاری تعداد اس آفت میں مبتلا ہےمسلمانوں کی آپس میں محبت و اخوت اور بھائی چارگی ختم ہو جاتی ہے۔اب شیطان ہماری تباہی و بربادی کے درپے ہےاور حسد اسکا اہم ہتھیار ہے۔شیطان حسد کی وجہ سے راندۂ درگاہ اور ملعون ہواہے۔بغض و حسد سے بچنے کے لیے نبی اکرم نے سلام کو عام کرنے کا حکم دیا ہے۔
حسد نیکیوں کا دشمن ہے۔حسد ایک تباہ کن عادت،نہایت بری خصلت اور گناہ عظیم ہے۔حسد بہت بڑا عیب ہے۔اور اسکی وجہ سے انسان نہ صرف خود بھلائی سے رک جاتا ہےبلکہ دوسروں کو بھی بھلائی سے روکنے کی کوشش میں مصروف ہو جاتا ہے۔لہذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اس سے بچنے کی خوب کوشش کرے ۔روحانیت کی راہ پر چلنا ہے تودل سے کینہ،حسد،بغض،نفرت،تکبر اور انا کو نکالنا پڑے گا۔اللہ کی دوستی حاصل کرنی ہے تو اسکے بندوں پر مہربان ہونا پڑے گا۔کیونکہ عبادت کرنے سے پارسائی ملتی ہےاور نیکی کرنے سے رب ملتا ہے۔حاسد تین درجوں سے گزرتا ہے۔1)سب سے پہلے اسکا دل تنگ ہوتا ہے ہر اپنے سے بہتر شخص کی تعریف سننے پر۔2)پھر وہ اسکو اپنے دل میں بھی کمتر جاننے لگتا ہے۔3)اور آخر میں وہ اس شخص کو نقصان پہنچاتا ہے۔"رسول اللہ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص دعا مانگے،تو یقین کے ساتھ دعا مانگے،یہ نہ کہے کہ یا اللہ اگر چاہے،تو مجھے دے دے،اس لیے کہ اللہ پر کوئی جبر کرنے والا نہیں "۔حسد اللہ پاک کی تقسیم پر راضی نہ ہونے کو کہتے ہیں۔دنیا میں پہلا قتل بھی حسد کی وجہ سے ہوا تھا۔کسی امیر کو دیکھتے ہی خیال آنا کہ اللہ نے اسے دے دیا ہے مجھے دے دیتا تو کیا ہوتا کسی کو تعلیمی نظام میں خود سے اعلیٰ دیکھنا اور کہنا کہ اگر اسکی جگہ میں ہوتا تو کیا ہو جاتا!کسی کی خوبصورتی دیکھنا اور کہنا کاش!میں اس جیسا،جیسی خوبصورت ہوتی۔اللہ پاک کے دیے پر نا خوش ہونا۔گناہ کبیرہ ہے ۔اسکے بجائے آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں یا اللہ اسے دیا ہے مجھے بھی اپنی رحمتوں کے سائے میں ہمیشہ رکھ تو نیکیوں میں اضافہ ہوگا۔کیونکہ حسد نیکیوں کو اسطرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔اپنے بچوں میں احساسِ کمتری کو ختم کریں انھیں انکی خوبیاں بتائیں کسی کے ساتھ کمپیٔر نہیں کریں جو ہے اس پر راضی رہنا سکھائیں۔نیکیوں کے حریص بنے گناہوں سے بچیں۔اپنا موازنہ کرنا ہے تو اپنے سے نچلے طبقے کے انسان کو دیکھیں آپکو تین وقت کا کھانا ملتا ہے لیکن کچھ لوگ ایسے ہیں جو ایک وقت کا کھانا بھی بمشکل کھاتے ہیں آپکے پاس دو آنکھیں،دو ٹانگیں اور دو ہاتھ ہیں لیکن جو معذور ہوتے ہیں انکا کیا۔زندگی تو انکی بھی گزر جاتی ہے۔بس اللہ پاک کی نعمتوں کا سوچیں اسنے آپکو کیا کیا نہیں نوازا۔ آپ خود دیکھیں گے زندگی حسین ترین ہو جائے گی۔اپنے دوست،احباب،رشتے دار بذات خود اگر اس حسد جیسی مرض میں مبتلا ہیں تو بچائیں اپنا آپ،اپنا گھر،اپنا حلقۂ احباب اور اپنا معاشرہ۔محنت کریں جیلس نہیں ہوں بلکہ کچھ کر کے دیکھاۓ۔تاکی آپکی بھی تعریف ہوآپ بھی کسی کے لیے مثال بنیں۔
بندہ گندے برتن میں دودھ نہیں ڈالتا۔۔تو اللہ گندے دل میں نور کیسے ڈال دے؟؟؟
زندگی بہت خوبصورت ہے تب جب اللہ کی عبادت میں اسے وقف کیا ہو۔آپ ان خوبصورت پل کو مزید خوبصورت بنائیں اپنی زندگی اللہ اور اسکے رسول کے کہے گئے طریقے سے گزارے۔خوشیاں ہمیشہ آپکے دروازے پر دستک دیں گی۔
السلام علیکم ۔۔ قرطاس اردو ادب کی جانب سے آپ کو یہ آرٹیکل کیسا لگا؟ ۔۔ اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں کریں

0 Comments