Breaking News

6/recent/ticker-posts

Hasad by Munzim Hayat complete article ۔

:آرٹیکل

 موضوع: حسد 

 ازقلم: منظم حیات 

پاکپتن 



کچھ لوگ ہوتے ہیں دنیا میں جو کسی کی خوشی، کامیابی کو برداشت نہ کر سکیں تو اس پر جلنے کڑھنے لگتے ہیں انسان خیال کرتا ہے آخر کو وہ چیز اس کے پاس ہی کیوں ہیں۔ میرے پاس کیوں نہیں ہے اس طرح وہ اندر ہی اندر ایک ان دیکھی آگ میں جلتا رہتا ہے 

 حسد انسان کی تمام خوبیوں کو دیمک کی طرح چاٹ لیتا ہے۔ حاسد اندر تک اپنی ہی جلائی ہوئی آگ میں خود کو جلاتا رہتا ہے وہ نہ تو خود خوش رہتا ہے اور نہ دوسروں کی خوشی میں خوش ہوتا ہے۔ 

میرے خیال میں حسد ایک بیماری ہے جو خواہشات کی پیروی کرتی ہے۔ وہ تمنا جس کے حصول کے لیے حاسد خود تو کوشش نہیں کرتا بلکہ دوسروں کی کامیابی سے حسد کرتا ہے انسان کو بیٹھے بٹھائے کبھی کچھ نہیں ملتا۔ حسد کرنے والے کے لیے یہ سزا کافی ہے کہ وہ ایک ان دیکھی اذیت میں خود کو گرفتار رکھتا ہے 

دراصل حسد کرنے والا کسی کا برا نہیں کرتا بلکہ اپنا نقصان کرتا ہے وہ کبھی کوئی خوشی محسوس نہیں کرتا بلکہ ہمیشہ ناخوش رہتا ہے یہ ایسی بیماری ہے جو انسان کے اندر منفی سوچ پیدا کردیتی ہے 

اس کی ایک بڑی وجہ خود پر بےاعتمادی بھی ہوسکتی ہے انسان حسد کی وجہ دوسروں کو پرکھتا ہے مگر خود پر توجہ نہیں دیتا۔ یہ نعمت کی فروانی تمہارے پاس بھی ہوسکتی ہے اگر صبروشکر کا مظاہرہ کرو اگر دوسروں کے پاس کچھ دیکھو اس پر رشک کرو اور اس کے حق میں دعا کرو۔ تم اشرف المخلوقات ہو بجائے اس کے کہ تم خود کو محض حسد کی وجہ سے ضائع کردو۔ خود پر محنت کرو۔ حسد ابلیس کا کام ہے ابلیس نے بھی آدم سے حسد کیا کہ یہ مجھ سے افضل کیسے ہوسکتا ہے ہم آدم کی اولاد ہیں حسد نہیں عاجزی اختیار کریں 

آپ جو ہیں وہ دوسرا نہیں ہوسکتا۔ دوسروں کی جگہ لینے کی بجائے اپنا مقام خود پیدا کریں۔


السلام علیکم ۔۔ قرطاس اردو ادب کی جانب سے آپ کو یہ آرٹیکل کیسا لگا؟ ۔۔ اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں کریں ۔



 

Post a Comment

0 Comments