:آرٹیکل
عنوان:- حسد
از:- اُم سلمیٰ
حسد کی شروعات تو عزازیل سے ہوئی تھی
پر اس کا اثر اشرف المخلوقات میں بھی ہے
جب اللہ رب العزت کی نا فرمانی کے بعد ابلیس کو جنت سے بے دخل کر دیا گیا! اس کی سر کشی یہ تھی کہ وہ مٹی کے پتلے کو سجدہ نہیں کرے گا اور وہی سے ابلیس کے اندر حسد کا جنم ہوا! سارے فرشتوں نے آدم علیہ السلام کو سجدہ کیا اور ایک اس کے سجدہ ریز نہ ہونے پر یعنی ابلیس کے اللہ تعالٰی نے اسے جنت سے باہر نکال دیا اور حضرت آدم علیہ اسلام کو بہت بڑا اوہدا دیا رہنے کے لئے جنت! کھانے پینے کے لئے منو سلویٰ! اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے جوڑا بنایا امّا حوّا کو وہ دونوں آرام اور عیش کی کیفیت میں تھے اور یہ دیکھ ابلیس حسد کی آگ میں جلنے لگا اس نے ایسی سازش کی جس کی بنیاد پر اللہ کا حکم ہوا اور آدم علیہ السلام اور امّا حوّا علیہِ سلام بھی جنت سے دنیا میں آ بسے تھے یہ نہ صرف اللہ کی نافرمانی کرنے سے ایسا ہوا بلکہ ابلیس کے حسد کی آگ بھی تھی!اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر بہت سارے qualites ڈالی ہیں انسان صرف مٹی کا پتلا نہیں بہت سارے مخلوقات کا مجموعہ ہے! بظاہر تو ہم انسان نظر آتے ہیں! پر ہم انسان کے ساتھ درندہ،حیوان چرند اور پرند بھی ہمارے اندر موجود ہیں !جب ہم اللہ سے جڑے ہوئے رہتے ہیں تو ہم نیک انسان
رہتے ہیں اور جب ہم بھٹک جاتے ہیں ابلیس کے وسوسے میں آکر تو شیطان کے شاگرد! مانا کہ انسان کی زندگی کا اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ پر اپنے دلو دماغ کا کنٹرول اچّھے بُرے کی سمجھ اس کا اختیار اللہ تعالیٰ نے ہم پر چھوڑا ہے
اس حسد نامی سیلاب سے کتنے گھر اُجڑے ہیں! پتہ ہے یہ حسد نامی کیڑا جب کسی انسانی مخلوق کے اندر جنم لیتا ہے تو انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت وہاں ختم ہو جاتی ہے! تو انسان کے دماغ میں جو بھی چل رہا ہوتا ہے وہی اس کا عمل ہوتا ہے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ایک بار یہ آگ جو سُلگ گئی جب تک کچھ تباہوبرباد نہیں کر دیتی بُجھتی نہیں ہے! حسد ہمارے انسانیت کے احساس کو ختم کر دیتا ہے! میرے خیال میں ہم لوگوں کو وختاً فا وقتاً اپنا introspection کرنا چاہئے اس سے یہ معلوم ہو جائے گا کہ ہمارے اندر کیا بیماری ہے جو حسد پیدا کرتی ہے ہمیں اس کی جڑ تک پہنچ کر اُسے کاٹنا ہوگا حقیقتاً حسد نامی بیماری نفس سے پیدا ہوتی ہے جتنے اعلیٰ ہمارے خواہشات اتنا زیادہ حسد مثلاً!
فلانے کسی بندے نے بنگلہ بنایا میرے پاس نہیں ہے! کسی لڑکی کے پاس مہنگا میک اپ اچھی جیولری ہو تو ہمیں کس قدر اس سے حسد پیدا ہونے لگتی ہے یہاں ثابت یہ ہوا کہ مین کردار نفس کا ہوتا ہے حسد کو پیدا کرنے کے لئے !ہم سارے گناہ خود کرتے ہیں نفس کے چلتے اور شیطان کو ملامت کرتے ہیں میں یہ نہیں کہہ رہی کہ ابلیس ننھا کاکا ہے وہ کچھ نہیں کرتا وہ ہمیں گناہ کرنے کا راستہ دکھاتا ہے نیک کاموں سے روکتا ہے پر اپنے نفس پر قابو پانے کے لئے ہم اپنی طرف سے غور و فکر کر سکتے ہیں لیکن ہمیں اپنے نفس کی پیروی کرنے سے فرصت ہی نہیں ہمیں خود کو ملامت کرنا چاہئے نہ کہ شیطان کو اگر اُس کی ساری غلطی ہوتی تو رمضان المبارک کے با برکت مہینے میں تمام شیاطین سمیت ابلیس کو بھی بیڑیاں ڈال کر اللہ تعالیٰ دریا میں پھینک دیتے ہیں تب بچا کون گناہ کرنے کے لئے ہم تو بے شک ہمیں اپنے نفس پر قابو پانا چاہئے نہ کہ اس کی پیروی کرنا چاہئے
قرآنِ کریم میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں :- اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوگا جو اللہ کی ہدایت(یعنی قرآن) کے بجائے بس اپنی خواہشات کی پیروی کریں اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشتا
(surah Al qasas ayat no 50)
السلام علیکم ۔۔ قرطاس اردو ادب کی جانب سے آپ کو یہ آرٹیکل کیسا لگا؟ ۔۔ اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں کریں

0 Comments