:آرٹیکل
ماں کے پیٹ سے سنسكار
بقلم : احمد حسن نوری
"شدت پسندی ایک ایسا جذبہ ہے جس میں انسان نا چاہتے ہوئے بھی بعض معاملات میں شدید جزباتی پن کا مظاہرہ کرتے نظر آتا ہے۔ مذہب بھی انھیں معاملات میں شمار کیا جاتا ہے۔ آپ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں(یہاں خصوصًا اسلام کا ذکر نہیں کیا جا رہا بلکہ تمام مذاہب کو ایک ہی فہرست میں رکھتے بات کی جا رہی ہے۔) ہمارا ہمسایہ بھارت جو کہ سیکولر کنٹری ہونا کا دعویٰ کرتا نظر آتا ہے ، مگر کیا ایسا ہے؟
حال ہی کی بات ہے مشہور خبر رساں ادارے کا پبلش کیا کالم نظر سے گزرا جس کا متن کچھ یوں تھا۔
"ماں کے پیٹ میں بچے کو سنسکار سکھانے کی مہم کا آغاز!"
اس ٹائٹل کو پڑھنے کے بعد میں اتنا حیران ہوا کہ میں نے اس پر مزید ری سرچ شروع کی...میں جیسے جیسے پڑھتا گیا مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ انتہا پسند ہندو مسلم نفرت میں اس قدر آگے بڑھ چکے ہیں کہ وہ اب یہ سب بھی کریں گے...ڈسکسٹنگ ٹوٹلی ڈسکسٹنگ, ہوا کچھ یوں کہ انڈین ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس نے 'گربھ سنسکار' یعنی حمل کلچر ( دوران حمل بچے کی برین واشنگ....) مہم کا آغاز کیا جس کے تحت زچہ و بچہ کے طبعی ماہرین خواتین کو سیکھائیں گے کہ وہ کیا طریقہ اختیار کریں کہ بچہ حمل کے دوران ہی ہندو تعلیمات سے واقف ہو چکا ہو۔
سوشل میڈیا پر صارفین نے اسے احمقانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آر ایس ایس غیر سائنسی تصورات کو ہوا دے رہی ہے۔
آر ایس ایس کی خواتین کی شاخ راشٹریہ سیویکا سمیتی نے اتوار کو دلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ایک ورکشاپ کا منعقد کروائی۔ اس ورکشاپ کو دلی کے طبی ادارے آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(ایمز) کے اشتراک سے منعقد کیا گیا تھا۔ اس میں ملک کی 12 ریاستوں کے تقریباً 80 گائناکالوجسٹ نے حصہ لیا تھا۔
راشٹریہ سیویکا سمیتی کی ناظم سکریٹری 'مادھوری مراٹھے' نے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’حمل سے ہی بچے میں ہندو اقدار کی شروعات کرنی ہے۔ بچے کو پیٹ میں ہی یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ملک کو باقی سبھی چیزوں پر فوقیت حاصل ہے۔‘ (یہ وہی نظریہ تھا جس کی بنا کر اب تک دو عالمی جنگیں ہو چکی ہیں اور تیسری میں ہم داخل ہیں۔) اس سب کا مقصد صرف و صرف ایک اکھنڈ(متحد) بھارت تشکیل دینا ہے جس میں مسلم, عیسائی, اور دیگر مذاہب کے لوگ شامل نہ ہوں صرف ہندوؤں کی سر زمین اکھنڈ بھارت معرضے موجود میں آئے۔۔
مگر کیا ایسا ممکن ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک ملک اتنے عرصہ سے حکمرانوں کی ناک کے نیچے یہ کھیلتا آیا ہو اور انسانی حقوق یونائٹڈ نیشل کسی فرد کو کچھ پتا ہی نہیں؟
یاں جان بھوجھ کر آنکھوں دیکھی مکھی خود بھی نگل رہے ہیں اور لوگوں کو بھی مجبور کرتے ہیں کہ نگلیں؟
'مادھوری مراٹھے' مزید کہتی ہیں کہ کا حمل سے پہلے اور حمل کے دوران دعائیں مانگنے اور عبادت سے من چاہی اولادیں پیدا ہوتی ہیں۔ انھوں نے مراٹھا بادشاہ شیواجی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’ان کی ماں جیجا بائی نے یہ دعا مانگی تھی کی کہ ان کے ہاں ایک ہندو رہنما پیدا ہو۔‘ اس بات میں اختلاف نہیں کرتا عائیں واقعی مانگنی چاہیں۔ مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے دعا....مسلمان جب کسی مشکل یاں پریشانی میں گرفتار ہوتا ہے تو اللہ تعالی سے فریاد کرتے کہتا ہے کہ اللہ مجھے اس مشکل سے نکال! مگر دعا ایک الگ چیز ہے جبکہ یہ اپنے بچوں کو پیدائشی دہشتگرد بنانا چاہتے ہیں, یہ چیز الگ ہے۔ بات یہی ختم نہیں ہوتی انڈین یوتھ کی اس برین واشنگ کرتے اسلام دشمنی کا چورن اس قدر سستے داموں بیچا گیا ہے کہ وہ لوگ ہمیں اپنا دشمن سمجھنے لگے ہیں...ان کی تمام فلمیں ایک رو (RAW) کے سیکرٹ ایجنڈ اور پاکستانی جاسوس کے گرد گھومتی ہیں۔ جسے پکڑنے کے لیے وہ ایجنڈ ملک میں گھس کر بےمثال تباہی مچاتے کامیاب ہو کر اپنے ملک واپس بھی چلا جاتا ہے جبکہ پوری کی پوری پاکستان ملٹری اور آئی ایس آئی بھانگ پی کر سو رہی ہوتی ہے۔ خیر میں واپس آتا اپنی خیر میری تو نہیں ہے انڈین راشٹریہ سیویکا سمیتی کی ناظم سکریٹری کی طرف آتا ہوں محترمہ مزید کہتی ہیں کہ خواتین کو حمل کے دوران اسی طرح کی دعا مانگنی چاہیے تاکہ بچے ہندو حکمرانوں کی خصوصیات کے ساتھ پیدا ہوں۔ راشٹریہ سیویکا سمیتی ماں کے پیٹ میں ہی بچے کے اندر ثقافتی اقدار پیدا کرنے کے لیے گائنا کولوجسٹ، ڈاکٹر اور یوگا ٹیچرز کی مدد سے حمل کے دوران خواتین کے لیے بھگود گیتا، راماین کے منتروں اور یوگا کی مشق کا پروگرام شروع کر رہی ہے۔ مادھوری مراٹھے نے کہا کہ یہ پروگرام حمل کے دنوں سے شروع ہو کر بچے کی دو سال کی عمر تک جاری رہے گا۔ ان کے مطابق ’بچہ ماں کے پیٹ میں 500 الفاظ تک یاد کر سکتا ہے
(نہیں مطلب کچھ بھی....چلیں میں بھی دعا شروع کرتا ہوں کہ میرا بیٹا امریکہ کا وزیر اعظم پیدا ہو۔ اور آپ سب بھی دعائیں شروع کر دیں کہ آپ کے بچوں کو بھی وزاتیں اور نوکریاں ان کے پیدا ہوتے ساتھ ہی پلیٹ میں ڈال کر پیش کر دی جائیں۔ کہ سر آپ کا بیٹا/بیٹی جب اٹھارا سال کا ہو گا اور اس کا آئی ڈی کارڈ بنا لیں تو خدا کے واسطے اُسے ہمارے پاس بھیج دیں ہمارے دفاتر آپ کے بچے/بچی کے منتظر ہیں۔ اس سب کے باجود بھی دعائیں بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہیں اسلام نے دعا کو مومن/ مسلمان کا ہتھیار قرار دیا ہے مگر اس کے ساتھ تدبیر کرنے کا بھی حکم دیتے کہا ہے کہ انسان کے لیے وہی ہے جس کی وہ کوشش کرے یہ قرآنی آیت کا مفہوم ہے...یعنی صرف خالی خولی دعا سے کچھ نہیں ملتا دعا کے ساتھ تدبیر بھی نہایت ضروری ہے۔)
یہ مشہور و معروف خبر رساں ادارے کی جانب سے شائع کردہ حقائق ہیں۔ اب آتے ہیں میری بات کی طرف....انڈیا میں ہونے والا یہ عمل سراسر انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ اب تک ان انسانی حقوق کی علمبردار یہ تنظیمیں متحرک کیوں نہیں ہوئیں! وہ تو کشمیر و برما,فلسطین و گجرات کے مسلمانوں کے لیے بھی متحرک نہیں ہوئیں تھی یہاں کیسے ہوتیں؟ خواتین مارچ والی خواتین ہی متحرک ہو جائیں جو کہ سال میں صرف ایک دن ہی نظر آتی ہیں۔ شوشل میڈیا سارفین اسے آڑے ہاتھوں لیتے...خوب تنقید کرتے نظر آ رہے ہیں۔ مگر یہ تنقید بھی وقتی ہے انھیں بھی نیا موضوع ملے جائے گا یوں یہ بات بھی باقیوں کی طرح دب جائے گا
ماں_کے_پیٹ_سے_سنسکار#
احمد_حسن_نوری#
سائفر کے مصنف....جسے پڑھنے کے بعد آپ یقینًا نہیں کہہ سکتے کہ اس کہانی نے وقت برباد کیا۔




0 Comments